حدیث نمبر: 21001
٢١٠٠١ - حدثنا جرير عن الركين (١) عن أبي طلحة الأسدي قال: (كنت) (٢) جالسًا عند ابن عباس فأتاه أعرابي فقال: كنت (في) (٣) غنم (فعدا) (٤) الذئب (فبقر) (٥) (النعجة) (٦) من غنمي، (فنثر) (٧) (قصبها) (٨) في الأرض فأخذت ظرارًا (٩) من الأظرة فضربت بعضه ببعض حتى صار لي منه كهيئة السكين، فذبحت به الشاة و (أهرقت) (١٠) به الدم، وقطعت العروق فقال: انظر (ما) (١١) مس الأرض منها فاقطعه فإنه قد مات وكل سائرها (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے بکریوں کے ریوڑ کو چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بھیڑ پر حملہ کردیا۔ اس نے بھیڑ کو بالکل نڈھال کردیا نا اور اس کی انتڑی باہر نکال دی۔ میں نے ایک پتھر کو توڑکر چھری کی طرح بنایا اور اس سے بکری کو ذبح کردیا۔ اس کا خون بھی بہا اور اس کی رگیں بھی کٹ گئیں۔ اب فرمائیں کہ اس بکری کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو حصہ زمین پر گرگیا تھا اسے پھینک دو اور باقی کو کھالو۔

حواشی
(١) في [س]: (الدكين).
(٢) في [س]: (كلت).
(٣) في [س]: (من).
(٤) في [س، ط، هـ]: (فعلا).
(٥) في [س، هـ]: (فنفر).
(٦) في [س]: (النمجة).
(٧) في [س]: (فسبر)، وفي [هـ]: (فبر).
(٨) القصب: الأمعاء، وفي [س، هـ]: (وصبها).
(٩) في [س]: (صرارًا)، وفي [هـ]: (طرارًا).
(١٠) في [ز، ك]: (وأهراقت).
(١١) في [ط]: (حدا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو طلحة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21001، ترقيم محمد عوامة 20184)