حدیث نمبر: 20974
٢٠٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كره من السمك ما يموت في الماء، إلا أن يتخذ الرجل (حظيرة) (١)، فما دخل فيها فمات لم ير (بأكله) (٢) بأسًا.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم پانی میں مرنے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیتے تھے، البتہ وہ مچھلی جو آدمی کے جال میں پھنس کر مرے اسے جائز قرار دیتے تھے۔
حواشی
(١) في [ب، ط]: (خطيرة).
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: (به).