حدیث نمبر: 20924
٢٠٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن (مسهر) (١) عن الأجلح عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: سأل رجل ابن عباس فقال: إني آتي (إلى) (٢) البحر، فأجده قد (جفل) (٣) سمكا كثيرا فقال: كل ما لم تر سمكًا طافيًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں سمندر کے کنارے پر بہت سی مچھلیوں کو گرا ہو ادیکھتا ہوں، ان کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو مچھلی خراب نہ ہو اسے کھالو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الأسهر).
(٢) في [أ، ب، ز، ط]: سقط (إلى).
(٣) في [أ، ب]: (حفل)، وفي [س]: (حبل)، وفي [ط، هـ]: (جعل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20924
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20924، ترقيم محمد عوامة 20108)