مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في (البندقة) والحجر يرمي به فيقتل، ما قالوا في لك؟ باب: اگر مٹی کی گولی یا پتھر کو شکار پر پھینکا جائے اور شکار مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20910
٢٠٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن (ابن) (١) حرملة (عن سعيد) (٢) قال: كُلْ وحشيةً أصبتها بعصى أو بحجر أو ببندقة وذكرت اسم اللَّه عليه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ ہر وہ جنگلی جانور جسے تم لاٹھی، پتھر یا پانی کی گولی سے شکار کرو اور اس پر اللہ کا نام لو تو اسے کھالو۔
حواشی
(١) سقط من [س]: (ابن).
(٢) سقط (عن سعيد) من: [أ، س، ط، هـ].
(٣) كذا في النسخ، وفي مصنف عبد الرزاق (٨٥٢٢)، والمحلى (٧/ ٤٦٠) زيادة (فكل).