حدیث نمبر: 20878
٢٠٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) بن بشير عن [حصين (عن) (٢) ابن (أخي) (٣)] (٤) مسروق (سأل) (٥) عن صيد المناجل قال: إنها تقطع من الظباء والحمر فيبين منه الشيء وهو حي، فقال ابن عمر: ما (أبان) (٦) منه وهو حي (فدعه) (٧) و (كل) (٨) ما سوى ذلك (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ درانتیوں کے ذریعے شکار کا کیا حکم ہے یہ خفیہ جگہوں میں لگائی جاتی ہیں اور بعض اوقات ہرنوں اور حماروحشی کے عضو کو کاٹ دیتی ہیں جبکہ جانور زندہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس کے کٹے ہوئے عضو کو چھوڑ دو اور باقی حصے کو کھالو۔

حواشی
(١) في [س، هـ]: (هاشم).
(٢) سقط من: [أ، جـ، خ، ز، س، ط، ك، هـ].
(٣) في: [أ، ب، جـ، ز، س، ط، ع، ك، هـ]: (أبي)، وانظر: المحلى ٧/ ٤٥٩ و ٤٦٧.
(٤) سقط من: [ك، ع].
(٥) في [ز، هـ]: (سئل).
(٦) في [جـ، ز، ك]: (بأن).
(٧) في [س]: (فدع).
(٨) في [س]: (أكل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح هشيم التحديث كما في المحلى ٧/ ٤٥٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20878، ترقيم محمد عوامة 20064)