مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
في الرجل يضرب الصيد فيبين منه العضو باب: اگر کوئی بھی آدمی شکار کو تیر مارے اور اس کا عضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20875
٢٠٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل ضرب صيدًا فأبان منه يدا أو رجلا، وهو حي ثم مات، قال: يأكله ولا يأكل ما (أبان) (١) منه إلا أن يضربه فيقطعه فيموت من (ساعته) (٢)، فإذا إن ذلك فليأكله كله.مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی شکار کو تیر مارا اور اس کا ہاتھ یا پاؤں توڑ دیا جبکہ جانور زندہ تھا، پھر وہ مرگیا تو اسے کھالے اور اس کے کٹے ہوئے حصے کو نہ کھائے۔ البتہ اگر اس نے اتنا شدید وار کیا کہ اس عضو کے کٹتے ہی مرگیا تو اس صورت میں سارا ہی کھالے۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، ك]: (بأن).
(٢) في [س، هـ]: (ساعة).