حدیث نمبر: 20807
٢٠٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن نافع عن ابن عمر قال في الطير: (البزاة) (١) والصقور وغيرها وما أدركت ذكاته فهو لك، وما (لم تدرك) (٢) ذكاته فلا تأكله (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پرندوں، بازوں یا شکروں کے ذریعے کئے گئے شکار کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو کھالو اور اگر ذبح نہ کرسکو تو پھر نہ کھاؤ۔

حواشی
(١) في [جـ]: (البزاة).
(٢) في [ز، ك]: (يدرك).
(٣) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20807
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20807، ترقيم محمد عوامة 19996)