مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
الكلب يرسل على (صيده) (فيعتقبه) غيره باب: اگر کوئی آدمی اپنے کتے کو کسی شکار پر چھوڑے اورکوئی دوسرا کتا بھی اس کے پیچھے لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20758
٢٠٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو بكر عن أسامة بن زيد قال: سألت القاسم عن الرجل يرسل الكلب المعلم؛ فيأخذ الصيد فيقتله؛ فيجد معه كلابًا غير معلمة؛ قال: إن كان يعلم أن كلبه المعلم (قتله) (٢) فليأكل، وإن شك فلا يدري لعل غير الكلب شركه فلا يأكل.مولانا محمد اویس سرور
اسامہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار ڈالے۔ لیکن یہ آدمی اپنے کتے کے ساتھ کچھ سدھائے کتے دیکھے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت قاسم نے فرمایا کہ اگر اسے معلوم ہوجائے کہ سدھائے ہوئے کتے نے اسے قتل کیا ہے تو اسے کھالے اور اگر اسے شک ہو کہ کسی دوسرے کتے نے اس کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے تو اسے نہ کھائے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (حدثنا).
(٢) في [ز]: (قتلته).