مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الطلاق في الشرك، من رآه جائزا باب: جن حضرات کے نزدیک حالتِ شرک میں دی گئی طلاق کااعتبار ہے
حدیث نمبر: 20225
٢٠٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (ابن) (١) أبي عروبة عن قتادة أن رجلًا طلق امرأته في الجاهلية تطليقتين ثم أسلم، فطلقها في الإسلام تطليقة (فسأل) (٢) عمر عبد الرحمن بن عوف فقال: طلاقه في الشرك ليس بشيء (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے زمانہ جاہلیت میں اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیدیں۔ پھر اسلام قبول کیا اور اسلام میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حالت شرک میں دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
حواشی
(١) في [ط]: سقطت.
(٢) في [س]: (فقال).
(٣) منقطع؛ قتادة لم يدرك عمر.