مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يقول لأم ولده: أنت علي حرام باب: اگر کوئی شخص اپنی ام ولد سے کہے کہ تو مجھ پر حرام ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20201
٢٠٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي عن ⦗٤٤٧⦘ مسروق قال: حرم رسول اللَّه ﷺ أم (ولده) (١) وحلف: لا يقربها فأنزل اللَّه تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ [التحريم: ١]، إلى آخر الآية، فقيل له: أما الحرام فحلال، وأما اليمين التي (حلفت) (٢) عليها فقد فرض اللَّه (تعالى) (٣) تحلة أيمانكم في اليمين التي (حلفتَ) (٤) عليها (٥)مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس بات کی قسم کھالی کہ اپنی ام ولد کے قریب نہیں جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِی مَرْضَاۃَ أَزْوَاجِکَ } تو اس میں آپ سے کہا گیا کہ جسے حرام کیا ہے وہ حلال ہے اور جو قسم آپ نے کھائی ہے تو اللہ تعالیٰ نے قسموں کو کفارہ سکھا دیا ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (ولد).
(٢) في [أ، س، ز، ط، هـ]: (حلف).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: (لكم)، وسقط من: [ط].
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (حلف).