حدیث نمبر: 20179
٢٠١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: كان من الحي فتى في بيت شلم (تزل) (٢) به أمه حتى (زوجته) (٣) ابنة عم له فعلق منها معلقًا، ثم قالت له أمه: طلقها، فقال: لا أستطيع، علقت مني (ما لا أستطيع) (٤) أن أطلقها معه، قالت: فطعامك (وشرابك) (٥) علي حرام حتى تطلقها فرحل إلى أبي الدرداء إلى الشام فذكر له شأنه فقال: (ما) (٦) أنا بالذي آمرك أن تطلق امرأتك، ولا أنا بالذي آمرك أن تعق والديك (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قبیلے میں ایک نوجوان تھا جس کی والدہ نے اصرار کرکے اس کی شادی اس کی چچا زاد بہن سے کرادی۔ پھر وہ لڑکا بھی اس سے محبت کرنے لگا۔ پھر اس کی والدہ نے اسے حکم دیا کہ اس لڑکی کو طلاق دے دے۔ اس نوجوان نے کہا کہ اب میں اسے چاہنے لگا ہوں اور اب اسے طلاق دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی ماں نے کہا کہ تیرا کھانا اور تیرا پانی مجھ پر حرام ہے جب تک تو اسے طلاق نہ دے دے۔ اس نوجوان نے شام کی طرف سفر کیا اور حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے سارا قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اپنی والدہ کی نافرمانی کا کہتا ہوں۔

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (وكيع).
(٢) في [س]: (ترك).
(٣) في [ب، س] (حتى تزوجته).
(٤) في [س]: (ما لا تستطيع).
(٥) في [جـ، ط]: (وخيرائك).
(٦) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20179
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20179، ترقيم محمد عوامة 19399)