حدیث نمبر: 20178
٢٠١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن (الركين) (١) عن أبي طلحة الأسدي قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتاه أعرابيان (فاكتنفاه) (٢) فقال: أحدهما: إني منت أبغي إبلًا لي، فنزلت بقوم فأعجبتني فتاة لهم، فتزوجتها فحلف أبواي أن لا يضماها أبدا، وحلف الفتى فقال: عليه (ألف محرر) (٣) وألف هدية وألف بدنة إن طلقها، فقال ابن عباس: ما أنا بالذي آمرك أن تطلق امرأتك، ولا أن (تعق) (٤) والديك قال: فما أصنع بهذه المرأة؟ قال: إبرر والديك (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوطلحہ اسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ دو دیہاتی اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا کہ میں اپنا اونٹ تلاش کرتا ہوا ایک قوم میں جا پہنچا، ان کی ایک لڑکی مجھے بہت پسند آئی میں نے اس سے شادی کرلی۔ میرے والدین نے قسم کھالی ہے کہ وہ اس عورت کو بہو کے طو رپر کبھی قبول نہ کریں گے۔ لڑکے نے قسم کھالی کہ اگر وہ اس کو طلاق دے تو اس پر ایک ہزار غلام آزاد کرنا، ایک ہزار ہدیے دینا اور ایک ہزار اونٹ صدقہ کرنا لازم ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی والدین کی نافرمانی کا۔ اس نے کہا کہ پھر میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا کہ والدین سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہو۔

حواشی
(١) في [ط]: (الدكين)، وفي [س]: (الوكين).
(٢) في [س]: (فاكتفاه).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ز]: (تعيق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20178
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو طلحة الأسدي صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20178، ترقيم محمد عوامة 19398)