مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا: كم عدة الأمة إذا طلقت؟ باب: جب باندی کو طلاق دی جائے تو وہ کتنی عدت گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19851
١٩٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو (سمع عمرو) (١) بن أوس يقول: أخبرني رجل من ثقيف يقول: سمعت عمر بن الخطاب (يقول) (٢): لو استطعت أن أجعل عدة الأمة حيضة ونصفًا (لفعلت) (٣) فقال له رجل: لو جعلتها شهرًا ونصفا فسكت (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں باندی کی عدت ایک حیض اور نصف مقرر کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور ایسا کردیتا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان کی عدت ڈیڑھ مہینہ مقرر کردیں تو زیادہ بہتر ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سکوت اختیار فرمالیا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) في [س]: سقط (يقول).
(٣) في [س]: (أفعلت)، وفي [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (فعلت).
(٤) مجهول؛ لإبهام الراوي عن عمر.