حدیث نمبر: 19715
١٩٧١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث ومحمد بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عمر قال: (١) لا (نجيز) (٢) قول المرأة في دين اللَّه، المطلقة ثلاثًا لها السكنى والنفقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے دین میں عورت کے قول کو جاری نہیں کرتے (یہ حضرت فاطمہ بنت قیس کے قول پر تعریض ہے) تین طلاقیں دی گئی عورت کے لئے خاوند پر رہائش اور نفقہ واجب ہوگا، حضرت ابن فضیل رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورت کے لئے اس بات میں خیر نہیں کہ وہ اس کا تذکرہ کرے۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (قال).
(٢) في [س، هـ]: (نخير)، وفي [ب]: (يجيز).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19715
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الدرامي (٢٢٧٧)، والدارقطني ٤/ ٢٣ و ٤/ ٢٧، والبيهقي ٧/ ٤٧٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19715، ترقيم محمد عوامة 18976)