مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف أن لا (يبني) بامرأته في موضع، من قال: ليس (بمول) باب: اگر کسی شخص نے یہ قسم کھائی کہ فلاں جگہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا تو جن حضرات کے نزدیک وہ ایلاء کرنے والا نہیں ہے
حدیث نمبر: 19713
١٩٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع قال ثنا) (١) إسماعيل ((بن) (٢) إبراهيم) (٣) عن أبيه عن مجاهد أن ابن الزبير تزوج امرأة فاستزادوه في المهر فحلف أن لا يزيدهم ولا يدخل بها حتى (يكونوا) (٤) هم (الذين) (٥) يطلبون ذلك منه قال: فتركها (سنين) (٦) ثم طلبوا إليه فدخل بها فلم يره إيلاء (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، لوگوں نے مہر میں اضافے کا مطالبہ کیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی کہ نہ تو مہر میں اضافہ کریں گے اور نہ ہی عورت سے دخول کریں گے، پھر دو سال تک انہیں چھوڑا رکھا، پھر لوگوں نے ان سے درخواست کی تو انہوں نے اپنی بیگم سے شرعی ملاقات فرمائی اور اسے ایلاء قرار نہ دیا، حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے اور ہماری بھی یہی رائے ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [س، ط، هـ].
(٢) في [أ، جـ، س، ز، ط، هـ]: (عن).
(٣) في [س]: تكرر.
(٤) في [س]: (يكون)، وفي [أ، ب، ط، هـ]: (يكونون).
(٥) في [أ، ب]: (الذي).
(٦) في [جـ، ط]: (سنتين).