حدیث نمبر: 1963
١٩٦٣ - حدثنا هشيم (١) عن إسماعيل بن سالم قال: خرج مجاهد، وأصحاب له فيهم عبدة بن أبي لبابة قال: خرجوا حجاجا، فكان (عبدة) (٢) يؤمهم في الصلاة قال: فبرز ذات يوم لحاجته، فأبطأ عليهم، فلما جاء قال له مجاهد: ما ⦗٤٠٠⦘ حبسك؟ قال: (إنما) (٣) قضيت حاجتي، ثم توضأت، ومسحت على خفي، فقال له (مجاهد) (٤): تقدم فصل بنا، فما أدري ما حسب صلاتك!.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور ان کے کچھ ساتھی جن میں حضرت عبداہ بن ابی لبابہ بھی تھے۔ وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے۔ حضرت عبدہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ رفع حاجت کے لیے گئے، اور بہت دیر کردی۔ جب وہ آئے تو حضرت مجاہد نے ان سے کہا کہ تم نے دیر کیوں کی ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے رفع حاجت کی، پھر میں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ حضرت مجاہد نے فرمایا چلو آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ میں نہیں جانتا کہ تمہاری نماز کے لیے کیا چیز کافی ہے (دھونا یا مسح کرنا ؟ )
حواشی
(١) في [ك] زيادة: (قال).
(٢) في [أ، خ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، جـ، خ]: (إنما) وفي [ك، هـ]: (ربما).
(٤) سقط من: [خ].