حدیث نمبر: 19550
١٩٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء أن امرأة أتت النبي تشكو زوجها قال: (تردين عليه ما (أخذت) (٢) منه؟ "، قالت: نعم، وأزيده قال: "أما زيادة فلا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضور ﷺ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، آپ نے فرمایا کہ جو تم نے اس سے لیا تھا اسے واپس دے دیا ؟ اس نے کہا ہاں میں نے زیادہ دے دیا، آپ نے فرمایا کہ زیادتی نہیں کرسکتی۔

حواشی
(١) في [ب، س، ط]: (جريح).
(٢) في [ط]: (خلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عطاء تابعي، أخرجه الدارقطني ٣/ ٢٥٥ و ٣٢١، وعبد الرزاق (١١٨٤٢)، وأبو داود في المراسيل (٢٣٥)، والبيهقي (٧/ ٣١٤)، وابن الجوزي في التحقيق (١٦٩٤)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19550، ترقيم محمد عوامة 18829)