مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل، متى يطيب له أن يخلع امرأته؟ باب: آدمی کے لئے اپنی بیوی کو خلع کا کہنا کب درست ہے؟
حدیث نمبر: 19438
١٩٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه عن أبي قلابة وابن سيرين قالا: لا يحل الخلع حتى (يوجد رجل) (١) على بطنها؛ لأن اللَّه يقول: ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [النساء: ١٩].مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ اور حضرت ابن سیرین d فرماتے ہیں کہ آدمی کے لئے بیوی کو خلع کا کہنا اس وقت تک مناسب نہیں جب تک وہ اس کے پیٹ پر کسی دوسرے مرد کو نہ دیکھ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں {إلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ }۔
حواشی
(١) كذا في النسخ، ولعله: (يجد رجلًا).