مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته تطليقتين أو تطليقة (فتزوج) ثم ترجع إليه، على كم تكون عنده؟ باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں ،پھر اس سے شادی کرلی تو اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا؟
حدیث نمبر: 19399
١٩٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن داود عن الشعبي أن زيادًا سأل عمران بن حصين وشريحًا عن الرجل يطلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فتبين فيتزوجها رجل فيطلقها أو يموت عنها (فيتزوجها) (١) الأول، على كم تكون عنده؟ فقال عمران: على ما بقي من الطلاق (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زیاد رحمہ اللہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور پھر کسی آدمی نے اس سے شادی کرکے اسے طلاق دے دی یا وہ فوت ہوگیا، اور پھر پہلے آدمی نے اس سے شادی کرلی تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق باقی رہے گا ؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کا جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نیا نکاح اور نئی طلاق ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (فتزوجها).