حدیث نمبر: 1931
١٩٣١ - حدثنا ابن علية عن يحيى بن أبي إسحاق (١): أنه سمع أنس بن مالك سئل عن المسح على الخفين؟ [(فقال: (امسح عليهما) (٢)، فقالوا له: أسمعته من النبي ﷺ قال: لا، ولكني سمعته ممن لا يتهم من أصحابنا يقولون: المسح على الخفين] (٣)، وإن صنع كذا، وكذا، لا يكني (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن ابی اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان پر مسح کرو۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ البتہ میں نے یہ حکم ان اصحاب سے سنا ہے جو تہمت سے پاک تھے، وہ فرماتے تھے کہ اگرچہ پیشاب پاخانہ بھی کیا ہو پھر بھی موزوں پر مسح ہوسکتا ہے۔

حواشی
(١) في حاشية [خ]: (الحضرمي).
(٢) سقط من: [خ].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1931
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يحيى صدوق، أخرجه مسدد وأحمد بن منيع كما في المطالب (١٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1931، ترقيم محمد عوامة 1925)