حدیث نمبر: 19252
١٩٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن أيوب عن سليمان بن يسار (أن نفيعا) (١) (فتى أم سلمة) (٢) طلق امرأته وهي حرة تطليقتين (فحرصوا) (٣) على أن يردوها عليه، وأبى عثمان وزيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام نفیع نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، لوگ چاہتے تھے کہ یہ خاتون واپس ان کے نکاح میں چلی جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا، حضرت سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کیا کسی نے اس کے علاوہ کوئی بات کرنی ہے ؟ جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ کو خط لکھا، انہوں نے مجھے جواب میں ایک حدیث لکھ بھیجی جس سے میرا دل مطمئن ہوگیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند آزاد ہو تو طلاق آزاد والی ہوگی اور عدت باندی والی اور اگر کسی آزاد عورت کا خاوند غلام ہو تو طلاق غلام والی ہوگی اور عدت آزاد والی۔

حواشی
(١) في [ز]: (ابن نفيع).
(٢) في [ط]: (ونا أم سلمة)، وفي [س]: (فتى أم ابن سملة)، وفي [هـ]: (مكاتبًا لأم سلمة).
(٣) في [أ، ب]: (فحرصوا)، وفي [ط]: كلمة غير واضحة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19252، ترقيم محمد عوامة 18557)