حدیث نمبر: 1925
١٩٢٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي العلاء قال: بعثنا علي إلى صفين، واستعمل علينا قيس بن سعد خادم رسول اللَّه ﷺ فسرنا حتى أتينا مسكن، فرأيت قيسًا (بال، ثم) (١) أتى (شط) (٢) دجلة، فتوضأ، ومسح على خفيه، فرأيت أثر أصابعه على خفيه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں صفین کی جانب روانہ فرمایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم حضرت قیس بن سعد کو ہمارا ذمہ دار بنایا۔ جب ہم تمام مسکن میں پہنچے تو حضرت قیس نے پیشاب کیا پھر دریائے دجلہ کے کنارے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا میں نے ان کے موزوں پر انگلیوں کے نشانات کو دیکھا۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في [جـ]: (وسط).
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي العلاء، أخرجه ابن المنذر (٤٥١) وابن سعد ٦/ ٥٣، والبخاري في التاريخ ٨/ ٤٢٧، والبيهقي ١/ ٢٩٣، ومسدد كما في المطالب (١٠٢) والطبراني ١٨/ (٨٨٢).