مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في البرية: ما هي؟ وما قالوا فيها؟ باب: عورت کو بریء الذمہ کہنے کاحکم
حدیث نمبر: 19160
١٩١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد عن رجل لزمته امرأته تسأله الطلاق فقال: اذهبي فأنا منك بريء وأنت مني بريئة، ولا ينوي الطلاق حينئذ، قال: إن لم يكن نوى الطلاق فليس (بطلاق) (٢) وإن كان نوى الطلاق فهي واحدة، وله أن يراجعها في عدتها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کی بیوی اس سے طلاق پر اصرار کرے اور وہ اس سے کہے کہ جا تو میری طرف سے آزاد ہے اور میں تیری طرف سے آزاد ہوں اور وہ طلاق کی نیت نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی اور اگر طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور اسے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (نا).
(٢) في [ط، هـ]: (الطلاق).