مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
١٨٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن (أبي) (١) سليمان عن عطاء قال: (أتي) (٢) ابن مسعود في رجل قال لامرأته: حبلك على (غاربك) (٣)، فكتب ابن مسعود إلى عمر، فكتب عمر: (مره) (٤) فليوافيني بالموسم فوافاه بالموسم، فأرسل إلى علي فقال له علي: أنشدك باللَّه ما نويت؟ قال: (نويت) (٥) امرأتي، قال: (ففرق) (٦) بينهما (٧).حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ تیری رسی تیری گردن پر ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں خط لکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسے کہو کہ موسم حج میں مجھے ملے۔ وہ آدمی موسم حج میں آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تمہاری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔