مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18948
١٨٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا بشر بن مفضل عن (سوار) (١) قال: نا (-أبو ثمامة- وامرأته من أهلنا-) (٢) أن كنانة بن (نقب) (٣) كانت عنده امرأة، وقد ولدت له أولادًا في الجاهلية فقال لها: ما فوق نطاقك محرر، فخاصمته إلى الأشعري فقال: أردت بما قلت الطلاق؟ قال: نعم! قال: فقد (أبناها) (٤) منك (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثمامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کنانہ بن نقب رحمہ اللہ کے نکاح میں ایک عورت تھی، جس کے بطن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی اولاد بھی ہوئی تھی، کنانہ نے اس عورت سے کہا کہ تیرے پیٹ سے اوپر کا حصہ آزاد ہے، وہ عورت جھگڑا لے کر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے آدمی سے پوچھا کہ کیا تو نے طلاق کی نیت کی تھی۔ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر ہم نے اسے تجھ سے جدا کردیا۔
حواشی
(١) في [س]: (سواء).
(٢) في أخبار القضاة (٢/ ٦٨): (عن ثمامة العنبري وعجوز لنا)؛ وهكذا هو في المطالب العالية (١٧٠٠)، وكذا في المؤتلف للدارقطني ١/ ٣٣١، وفي خبر الشتاء عدو روى ابن عدي ٣/ ٤٥٣، عن عبد اللَّه بن سوار قال: حدثني أبي عن أبي ثمامة عن كنانة عن عمر.
(٣) في [س، ط]: (نعت)، وفي [أ، ب، جـ]: (نفت)، وفي [ك]: (لقب)، وفي [هـ]: (لصت).
(٤) في [س]: (أنبانها).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي ثمامة.