حدیث نمبر: 18586
١٨٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن رجل حدثه أن امرأة سألت ابنها أن يزوجها فكره ذلك، وذهب إلى عمر فذكر ذلك له فقال (عمر) (١): اذهب فإذا كان غدًا أتيتكم قال: فجاء عمر فكلمها ولم يكثر ثم أخذ بيد ابنها فقال له: زوجها (فوالذي) (٢) نفس (عمر) (٣) بيده لو أن (حنتمة) (٤) بنت هشام - (يعني عمر) (٥): (أم) (٦) (٧) (نفسه) (٨) - سألتني أن أزوجها لزوجتها، فزوج الرجل أمه (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میری شادی کرادے، بیٹے نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ساری بات عرض کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جاؤ میں تمہارے پاس کل آؤں گا۔ اگلے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہائے اور اس عورت سے مختصر بات چیت کی پھر اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ تم اس کی شادی کرادو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں عمر کی جان ہے ! اگر حنتمہ بنت ہشام (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی والدہ) مجھ سے شادی کرانے کا کہتیں تو میں ضرور ان کی شادی کرادیتا۔ پس آدمی نے اپنی والدہ کی شادی کرا دی۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [س]: (والذي).
(٣) في [جـ]: سقط (عمر).
(٤) في [أ، ب، ط]: (خيثمة)، وفي [ك]: (حيتمة)، وفي [س]: (هيثمة).
(٥) في [ط]: (كلمتان غير واضحتين).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [ك]: زيادة (من).
(٨) في [س]: (نقه).
(٩) مجهول؛ لإبهام شيخ هشام بن عروة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18586
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18586، ترقيم محمد عوامة 17945)