حدیث نمبر: 18482
١٨٤٨٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن الجريري عن أبي نضرة عن الطفاوي (عن أبي هريرة) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أحدكم (يخبر) (٢) بما (يصنع) (٣) (بأهله) (٤)؟ وعسى إحداكن أن تخبر بما (يصنع) (٥) بها زوجها"! فقامت امرأة سوداء فقالت: يا رسول اللَّه! إنهم ليفعلون وإنهن ليفعلن، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أخبركم بمثل ذلك؟ (إنما) (٦) مثل ذلك كمثل (شيطان) (٧) لقي شيطانة، فوقع عليها في الطريق والناس ينظرون، فقضى حاجته منها والناس ينظرون" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ بات کیسے درست ہے کہ تم مردوں میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے ملاقات کی تفصیل لوگوں کو بتائے یا تم میں سے کوئی عورت اپنے خاوند سے ملاقات کی تفصیل لوگوں کو بتائے۔ اس پر ایک سیاہ فام عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کہ جب مرد اور عورت یہ کرتے ہیں تو بتانے میں کیا حرج ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اس کی مثال ایسے ہے جیسے نر شیطان کسی مادہ شیطان سے ملتا ہے اور راستہ میں اس سے جماع کرتا ہے جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اس سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [س]: (يخير).
(٣) في [س، هـ]: (صنع).
(٤) في [هـ]: (باهلي).
(٥) في [س، هـ]: (صنع).
(٦) سقط من: [س، هـ].
(٧) في [هـ، س]: (الشيطان).
(٨) مجهول؛ لجهالة الطفاوي، أخرجه أحمد (١٠٩٧٧)، وأبو داود (٢١٧٤)، والترمذي (٢٧٨٧)، وعبد بن حميد (١٤٥٦)، وإسحاق (١٢٤)، وابن حبان (٥٥٨٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٧٥٢)، والبيهقي ٧/ ١٩٤، وابن عساكر ٦٧/ ٣٢٧، وابن السني (٦١٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18482
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18482، ترقيم محمد عوامة 17850)