حدیث نمبر: 18429
١٨٤٢٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي بكر بن حفص قال: سمعت عروة بن الزبير يقول: خطبت (إلى) (١) ابن عمر ابنته فقال: (إن ابن أبي عبد اللَّه) (٢) لأهل أن (ينكح) (٣)؟ نحمد اللَّه (ونصلي) (٤) على النبي ﷺ (٥) (وقد) (٦) زوجناك على ما أمر اللَّه (٧)، ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة: ٢٢٩] (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کا بیٹا نکاح کا اہل ہے۔ ہم اللہ کی تعریف کرتے ہیں، نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ ہم نے اللہ کے امر {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پر عمل کرتے ہوئے تمہاری شادی کرادی۔ حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چلتے ہوئے ایک آدمی کا نکاح کرادیا۔
حواشی
(١) في [س]: (إني).
(٢) في [س، ط]: (ان أبي عبد اللَّه)، وفي [هـ]: (ابن أبي عبد اللَّه).
(٣) في [س، ط]: (تنكح).
(٤) في [س]: (ويصلي).
(٥) في [جـ، س، ك، هـ]: ﵇.
(٦) في [جـ، ز، ك]: (قد)، وفي [أ، ب، س، ط]: (قال).
(٧) في [هـ]: زيادة (به).