مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يكون) له المرأة أو الجارية فيشك في ولدها، ما يصنع؟ باب: ایک آدمی کی کوئی بیوی یا باندی ہو لیکن اسے بچے میں شک ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 18410
١٨٤١٠ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن عثمان بن الأسور عن عطاء في الرجل يشك في ولده (قال: مره) (١) (فليستلحقه) (٢) (وإن) (٣) (عمر) (٤) بن الخطاب قال: من أقر أنه أصاب وليدة أو غشي الحقنا به ولدها (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو اپنے بچے کے نسب کے بارے میں شک ہوا تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اسے حکم نے بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔ کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے کسی باندی سے جماع کیا ہے تو ہم بچے کو اسی کا قرار دیں گے۔ پھر میں نے اس بارے میں حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی فرمایا کہ اسے حکم دو کہ بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [س]: (مرة).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فليستحلفه).
(٣) في [جـ، ك، ط]: (فإن)، وفي [ز]: (قال).
(٤) في [س]: (حدثنا عمرو).
(٥) منقطع؛ عطاء لم يدرك عمر.