مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في المرأة تفسد المرأة (بيدها)، ما عليها في ذلك؟ باب: اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردۂ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا؟
١٨٣٨٤ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن أبي (بشر) (١) عن الشعبي أن نسوة (كن) (٢) بالشام فأشرن و (بطرن) (٣) (ولعبن) (٤) (الحزقة) (٥) فركبت واحدة الأخرى و (نخست) (٦) (الأخرى) (٧) فأذهبت (عذرتها) (٨) (فرفع) (٩) ذلك إلى عبد الملك بن مروان فسأل عن ذلك فضالة بن عبيد وقبيصة بن (ذؤيب) (١٠) فقالا: عليهن الدية و (ترفع) (١١) نصيب واحدة (١٢).حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام میں کچھ لڑکیاں کھیلنے کے لئے جمع ہوئیں، ایک لڑکی دوسری پر سوار ہوئی اور دوسری نیچے دب گئی جس کی وجہ سے اس کا پردہ بکارت زائل ہوگیا۔ یہ مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فضالہ بن عبید رحمہ اللہ اور قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا۔ ان دونوں نے فرمایا کہ ان سب لڑکیوں پر دیت واجب ہوگی اور ایک کا حصہ اٹھالیا جائے گا۔ ابن معقل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دیت صرف اس پر ہونی چاہئے جس نے اسے دبایا ہے۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہی ہونا چاہئے اور دیت کے بجائے پردہ بکارت کو زائل کرنے کا تاوان ہونا چاہئے۔