مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في المرأة تفسد المرأة (بيدها)، ما عليها في ذلك؟ باب: اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردۂ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا؟
١٨٣٨١ - حدثنا هشيم بن بشير عن إسماعيل عن الشعبي أن (جوار) (١) أربعًا اجتمعن فقالت إحداهن: هي رجل وقالت الأخرى: هي (امرأة) (٢) وقالت الثالثة: أنا أبو الذي (زعمت) (٣) أنها امرأة وقالت الرابعة: أنا أبو الذي (زعمت) (٤) أنها رجل فخطبت (التي) (٥) زعمت أنها أبو الرجل إلى التي زعمت أنها أبو المرأة فزوجتها؛ فأفسدت التي زعمت أنها رجل الجارية التي زوجتها فاختصموا (إلى) (٦) عبد الملك بن مروان فجعل صداقها على أربعتهن ورفع حصة التي زعمت أنها (امرأة) (٧) لأنها (أمكنت) (٨) من نفسها.حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار نوعمر لڑکیاں کھیلنے کے لئے جمع ہوئیں، ایک نے کہا کہ وہ آدمی ہے، دوسری نے کہا کہ وہ عورت ہے، تیسری نے کہا کہ وہ عورت کا باپ ہے، چوتھی نے کہا کہ وہ آدمی کا باپ ہے۔ آدمی کے باپ کا کردار ادا کرنے والی نے عورت کے باپ کا کردار ادا کرنے سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ جب شادی ہوگئی تو لڑکے کا کردار ادا کرنے والی لڑکی نے عورت کا کردار ادا کرنے والی بچی کے پردہ بکارت کو نقصان پہنچا دیا۔ یہ سارا مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس پیش کیا گیا۔ انہوں نے مہر کے برابر رقم چاروں لڑکیوں پر لازم کی اور عورت کا کردارادا کرنے والی لڑکی کے حصے کو اٹھا دیا۔ یہ فیصلہ عبد اللہ بن معقل مزنی رحمہ اللہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ میرے پاس آتا تو میں صرف پردہ بکارت کو زائل کرنے والی لڑکی پر تاوان کو لازم کرتا۔