مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يشترى الجارية وهى حامل أو (يسبيها)، ما قالوا في ذلك؟ باب: اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٨٣٦٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن الشعبي قال: قلت (له) (١): إن أبا موسى نهى حين فتح (تستر) (٢): (ألا) (٣) توطأ الحبالى (ولا تشارك) (٤) (المشركين) (٥) في أولادهم، فإن الماء يزيد في الولد، (أشيء) (٦) قاله برأيه؟ أو شيء رواه عن النبي؟ فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ يوم أوطاس أن توطأ حامل حتى (تضع) (٧) أو (حائل) (٨) حتى تستبرئ (٩).حضرت داود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے تستر کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ عورت سے جماع نہ کیا جائے اور مشرکین کی اولاد میں شراکت نہ کی جائے، کیونکہ پانی بچے میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ سے بچے کی پیدائش سے پہلے جماع نہ کیا جائے اور دوسری خواتین سے اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک ان کے رحم کا خالی ہونا معلوم نہ ہوجائے۔