حدیث نمبر: 18287
١٨٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عمر أن النبي ﷺ فرق بين المتلاعنين وقال: "حسابكما على اللَّه، أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها"، فقال: يا رسول اللَّه فمالي؟ قال: "لا مال لك، إن كنت صادقًا فهو ⦗٥٣٨⦘ بما استحللت من فرجها، وإن كنت كاذبًا (فذلك) (١) أبعد لك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی اور فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اب مرد کا عورت پر کوئی حق نہیں۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو عورت سے مباشرت کی حلت کے بدلے تیرا مال خرچ ہوگیا اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر تو کسی قسم کا حق باقی نہیں رہا۔

حواشی
(١) في [ك]: (فذاك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18287
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٥٠)، ومسلم (١٤٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18287، ترقيم محمد عوامة 17671)