مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من رخص في لبن الفحل ولم يره شيئا باب: جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
١٨٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) ابن إدريس عن محمد بن (عمرو) (٢) عن أبي عبيدة بن عبد اللَّه بن زمعة عن أمه زينب ابنة أبي سلمة قالت: كانت أسماء أرضعتني، وكان (٣) الزبير يدخل علي وأنا أمتشط ويأخذ القرن من قروني ويقول: أقبلي عليّ (فحدثني -بربي-) (٤) (أنه) (٥) ⦗٥٣٣⦘ (أبي) (٦) و (أنَّ ما) (٧) ولد إخوتي، فلما كان (يوم) (٨) الحرة أرسل عبد اللَّه بن الزبير يخطب ابنتي على حمزة (بن) (٩) الزبير، وحمزة ومصعب للكلبية أرسلت إليه: هل تصلح له؟ فأرسل إلي: إنما تريدين منعي بنتك وأنا أخوك وما ولدت أسماء (فهم) (١٠) إخوتك، (وأما) (١١) ولد الزبير لغير أسماء فليس لك بإخوة فأرسلي فسلي، فأرسلت فسألت وأصحاب النبي ﷺ متوافرون وأمهات المؤمنين فقالوا: إن الرضاعة من قبل الرجال لا تحرم شيئًا (١٢).حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا۔ چناچہ (ان کے خاوند) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کررہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے۔ یومِ حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حمزہ بن زبیر رحمہ اللہ کے لئے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ حمزہ اور مصعب (حضرت زبیر کے دو بیٹے ، حضرت اسماء کے بیٹے نہ تھے بلکہ ) بنو کلب کی عورت سے تھے۔ میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ان سے ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کررہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو ؟ جو بچے حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م اور امہات المومنین g بقیدِ حیات تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔