مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في لبن (الفحل) من كرهه باب: جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مردبھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
حدیث نمبر: 18258
١٨٢٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين (فقال) (١): ذكر (لبن) (٢) الفحل فقال: وقد كرهه (أناس) (٣) ورخص فيه أناس فكان من كرهه عند الناس أفضل.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ دودھ اترنے کا سبب بننے والے مرد کے حکم کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ مکروہ ہے، بعض نے اس کی اجازت دی ہے۔ جن لوگوں نے اسے مکروہ خیال کیا ان کا قول زیادہ بہتر ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (قال).
(٢) في [س]: (للبن).
(٣) سقط من: [أ، ب].