مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في (الرجل) يقع على مكاتبته باب: کیا آدمی مکاتبہ باندی سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 18198
١٨١٩٨ - [حدثنا ابن مهدي (١) عن الدستوائي عن (قتادة) (٢) في رجل (وطيء) (٣) مكاتبته قال] (٤): إن كان استكرهها فعليه العقر (٥) والحد وإن كانت طاوعته فعليه الحد وليس عليه (العقر) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی مکاتبہ باندی سے جماع کیا، اگر زبردستی کیا تو حد بھی لگے گی عقر (فرج مغصوب کی دیت) بھی دینا ہوگی۔ اور اگر مکاتبہ کی خوشی سے کیا تو حد تو لگے گی لیکن عقر نہیں دے گا۔
حواشی
(١) في [ز]: زيادة (عن حماد بن سلمة عن مطرف).
(٢) في [ز]: (قلابة).
(٣) في [ز]: (يطأ).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٥) العقر للمغتصبة من الإماء كمهر المثل للحرة، انظر: تاج العروس للزبيدي مادة (عقر).
(٦) في [أ، ب، ك]: (عقر).