مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في المرأة أو الرجل يحل لرجل جاريته، يطأها؟ باب: کیا کوئی مرد یاعورت کسی دوسرے مرد کو اپنی باندی سے جما ع کی اجازت دے سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 18193
١٨١٩٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن مطرف عن رجل عن إبراهيم في امرأة أحلت لرجل جاريتها فولدت منه فقال إبراهيم: هذا فرج أتاه (بجهالة) (١) فألحق به الولد وادفع إلى هذه وليدتها.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت نے اپنی باندی اپنے خاوند کے لئے حلال کردی اور اس جماع سے باندی نے بچے کو جنم دیا تو یہ ایک ایسی شرمگاہ ہے جس پر جہالت کی وجہ سے آیا گیا ہے، بچہ آدمی کا ہوگا اور یہ باندی ام ولد کی حیثیت سے مالکن کو واپس لوٹائی جائے گی۔
حواشی
(١) في [ك]: (بجماله).