مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في المرأة أو الرجل يحل لرجل جاريته، يطأها؟ باب: کیا کوئی مرد یاعورت کسی دوسرے مرد کو اپنی باندی سے جما ع کی اجازت دے سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 18190
١٨١٩٠ - حدثنا ابن فضيل (١) عن عبد الملك عن عطاء في (رجل) (٢) قال لآخر: جاريتي لك تطأها فإن حملت فهي لك، وإن لم تحمل رددتها عليّ، قال: إذا وطئها فهي له.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ تو میری باندی سے جماع کرلے، اگر وہ حاملہ ہوگئی تو تیری اور اگر حاملہ نہ ہوئی تو مجھے واپس کردینا۔ اس صورت میں اگر اس آدمی نے اس سے وطی کی تو وہ اسی کی ہوجائے گی۔
حواشی
(١) في [ك]: زيادة (ادريس).
(٢) في [جـ]: (الرجل)، وفي [هـ]: (الرجل تزوج).