حدیث نمبر: 18186
١٨١٨٦ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا عباد بن العوام عن صخر بن جويرية عن نافع (أن) (٢) ابن عمر سئل عن امرأة أحلت جاريتها لزوجها فقال ابن عمر: لا أدري، لعل هذا لو كان على عهد عمر لرجمه، إنها لا تحل لك جارية إلا جارية إن ⦗٥١٦⦘ شئت بعتها، وإن شئت أعتقتها، وإن شئت وهبتها، وإن شئت أنكحتها من شئت (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا کوئی عورت اپنی باندی کو اپنے خاوند کے لئے حلال قرار دے سکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوتاتو وہ اسے سنگسار کرنے کا حکم دیتے، تیرے لئے صرف وہی باندی حلال ہے جسے تو اپنے مرضی سے بیچ سکے اور اپنی مرضی سے آزاد کرسکے، اگر چاہے تو اسے ہبہ کرسکے اور اگر چاہے تو اس سے نکاح کرسکے۔

حواشی
(١) في [س]: سقط (قال).
(٢) في [س]: (عن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18186
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18186، ترقيم محمد عوامة 17581)