مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يرى المرأة فتعجبه من قال: يجامع أهله باب: ایک آدمی کی نظر کسی اجنبی عورت پر پڑے اور وہ اسے اچھی محسوس ہو تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی سے صحبت کرلے؟
١٨٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن عبد اللَّه بن (١) حبيب قال: خرج رسول اللَّه ﷺ، فلقي امرأة فأعجبته فرجع إلى أم سلمة وعندها نسوة (يدفن) (٢) طيبًا قال: فعرفن (ما) (٣) في وجهه (فأخلينه) (٤) فقضى حاجته فخرج فقال: "من رأى منكم امرأة فأعجبته فليأت أهله فليواقعها فإنَّ معها مثل الذي معها" (٥).حضرت عبد اللہ بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ باہر تشریف لائے، ایک خاتون پر آپ کی نگاہ پڑی اور وہ آپ کو بھلی محسوس ہوئی۔ آپ واپس حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس کچھ عورتیں بیٹھی خوشبو بنا رہی تھیں۔ ان عورتوں نے حضور ﷺ کو دیکھا تو چلی گئیں۔ حضور ﷺ نے اپنی حاجت کو پورا فرمایا اور باہر تشریف لے آئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی شخص کی نظر اگر کسی عورت پر پڑے اور وہ اسے بھلی محسوس ہو تو اپنی بیوی سے صحبت کرلے کیونکہ جو کچھ اس عورت میں ہے وہ اس کی بیوی میں بھی ہے۔