مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما يؤمر به الرجل إذا دخل على أهله؟ باب: بیوی سے شرعی ملاقات کے کیاآداب ہیں؟
حدیث نمبر: 18039
١٨٠٣٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أم (موسى) (١) قالت: كانت لا تزف بالمدينة جارية إلى زوجها حتى يُمر بها في المسجد فتصلي فيه -قال أبو بكر: قال: أراه قال: ركعتين- وحتى يمر بها على أزواج النبي ﷺ فيدعون لها (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ مدینہ میں جب کسی لڑکی کو رخصت کیا جاتا تو پہلے اس کو مسجد میں لاکر دو رکعت نماز پڑھائی جاتی اور نبی پاک ﷺ کی ازواج کے پاس لائی جاتی تاکہ وہ اس کے لئے دعا فرمائیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (سلمة).
(٢) مجهول؛ لجهالة أم موسى.