مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما يؤمر به الرجل إذا دخل على أهله؟ باب: بیوی سے شرعی ملاقات کے کیاآداب ہیں؟
١٨٠٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: تزوجت وأنا مملوك فدعوت نفرًا من أصحاب النبي ﷺ فيهم ابن مسعود وأبو ذر وحذيفة قال: وأقيمت الصلاة قال: فذهب أبو ذر ليتقدم فقالوا: إليك (قال) (١): أو كذلك؟ قالوا: نعم! قال: (فتقدمت) (٢) (بهم) (٣) وأنا عبد مملوك وعلموني (فقالوا) (٤): إذا (أُدخل) (٥) عليك أهلك فصل (٦) ركعتين ثم (سل) (٧) اللَّه (تعالى) (٨) من خير ما دخل عليك، وتعوذ به من شره ثم شأنك وشأن أهلك (٩).حضرت ابو اسید کے مولیٰ حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ جب میں نے شادی کی تو میں غلام تھا۔ میں نے نبی ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت کی دعوت کی۔ ان میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ م بھی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہاگے ہونے لگے تو ساتھیوں نے ان سے فرمایا آپ آگے بڑھیں اور مجھے نماز پڑھانے کو کہا۔ میں غلام تھا پھر بھی میں نے نماز پڑھائی۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا جب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ تو دو رکعت نماز پڑھو، پھر اللہ تعالیٰ سے خیر مانگو اور شر سے پناہ چاہو۔ پھر اپنی بیوی کے ساتھ مصروف ہوجاؤ۔