حدیث نمبر: 18015
١٨٠١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن حميد عن أمه قالت: كن نساء أهل المدينة إذا أردن أن يبنين بامرأة (على) (١) زوجها بدأن بعائشة فأدخلنها عليها، فتضع يدها ⦗٤٧٠⦘ على رأسها تدعو لها وتأمرها (بتقوى) (٢) اللَّه وحق الزوج (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید رحمہ اللہ کی والدہ فرماتی ہیں کہ جب مدینہ والے اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے پاس رخصت کرنے لگتے تو اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے سر پر ہاتھ پھیرتیں ، اس کے لئے دعا کرتیں اور اسے تقویٰ اختیار کرنے اور خاوند کا حق ادا کرنے کی نصیحت فرماتیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: تكرر (على).
(٢) في [ز، ك]: (بحق).
(٣) مجهول؛ لجهالة أم حميد.