مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في قوله (تعالى): ﴿الزاني لا ينكح إلا زانية﴾ باب: قرآن مجید کی آیت {اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً} کی تفسیر
حدیث نمبر: 17791
١٧٧٩١ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً﴾ بغايا (متعالنات) (١) كن في الجاهلية فقيل لهن: هذا حرام فأرادوا نكاحهن (فحرم) (٢) اللَّه عليهم نكاحهن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت میں جسم فروشی کا پیشہ کرنے والی عورتیں ہیں۔ ان عورتوں کو بتایا گیا کہ یہ حرام ہے تو انہوں نے نکاح کا ارادہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ز، ط، هـ]: (متعالمات).
(٢) في [س]: (تحرم).