مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون تحته المرأة فيطلقها فيتزوج أختها في عدتها باب: اگر ایک آدمی کسی عورت کوطلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17592
١٧٥٩٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن (حماد) (١) عن إبراهيم قال: إذا نكح الرجل المرأة ثم طلقها؛ ثم تزوج أختها في عدتها قال: (نكاحها) (٢) حرام، ويفرق بينهما ولا صداق لها ولا عدة عليها و [إن كان دخل بها فلها الصداق كاملًا وعليها العدة كاملة ويعتدان منه جميعًا كل واحدة ثلاث قروء فإن كانتا لا تحيضان فثلاثة أشهر] (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے پھر اسے طلاق دے دے۔ پھر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے تو اس کا نکاح حرام ہے۔ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔ عورت کے لئے نہ مہر واجب ہوگا اور نہ ہی عدت واجب ہوگی۔
حواشی
(١) سقط من [ز].
(٢) في [جـ، ز]: (نكاحهما).
(٣) تقدم ما بين المعكوفين في [أ، ب، س، ط]: بعد الخبر [١٧٥٧٦]، وسقط من: [هـ].