مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المفقود يجيء وقد تزوجت امرأته باب: گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17561
١٧٥٦١ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة قال: سمعت القاسم بن محمد يقول: قضى (فينا) (٢) ابن الزبير في مولاة (لهم) (٣) كان (زوجها) (٤) قد نعي ⦗٣٦١⦘ (فتزوجت) (٥) ثم جاء زوجها، فقضى أن زوجها الأول يخير إن شاء امرأته (و) (٦) إن شاء صداقه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ لایا گیا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی۔ پھر اس کا پہلا خاوند بھی آگیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے پہلے خاوند کو اختیاردیا جائے گا اگر چاہے تو بیوی کو لے لے اور اگر چاہے تو اپنا دیا ہوا مہر واپس لے لے۔ حضرت عمر بن حمزہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بھی یہی کہا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [س]: (عمرو).
(٢) في [جـ]: (فيه)، وسقط من: [ز].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [ط]: (زجها).
(٥) في [هـ، س، ط]: (فزوجت).
(٦) سقط من: [س].