مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المفقود يجيء وقد تزوجت امرأته باب: گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے؟
١٧٥٥٩ - حدثنا ابن نمير عن سعيد عن قتادة عن أبي المليح عن (سهيمة) (١) ابنة عمير (الشيبانية) (٢) قالت: نُعي إليَّ زوجي (من) (٣) (قندابيل) (٤) فتزوجت (بعده) (٥) ⦗٣٦٠⦘ (العباس) (٦) بن طريف أخا (بني) (٧) قيس، فقدم زوجي الأول فانطلقنا إلى عثمان وهو (محصور) (٨) (فقال) (٩): كيف أقضي (بينكم) (١٠) على حالي هذه؟ قلنا: قد رضينا بقضائك فخير الزوج بين الصداق وبين المرأة (١١) فلما أصيب عثمان انطلقنا إلى علي وقصصنا عليه (القصة) (١٢) فخير الزوج الأول بين الصداق وبين المرأة (فاختار) (١٣) الصداق فأخذ مني ألفين ومن (الزوج) (١٤) الآخر ألفين (١٥).حضرت سہیہ بنت عمیر شیبانیہ فرماتی ہیں کہ مجھے قندابیل میں اپنے خاوند کے انتقال کی خبر ملی۔ میں نے بعد میں عباس بن طریف جو بنو قیس کے بھائی تھے شادی کرلی۔ بعد میں میرے پہلے خاوند بھی واپس آگئے۔ ہم مسئلہ پوچھنے حضرت عثمان بن عفان کے پاس گئے، اس وقت وہ محصور تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس حال میں تمہارے درمیان فیصلہ کیسے کرسکتا ہوں ؟ ہم نے کہا کہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ انہوں نے خاوند کو مہر اور عورت میں سے ایک چیز کا اختیار دیا۔ جب حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا تو ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا۔ پس انہوں نے مہر کو اختیار کرتے ہوئے مجھ سے اور دوسرے خاوند سے دو دو ہزار لئے۔