حدیث نمبر: 17557
١٧٥٥٧ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن الشعبي سئل عمر عن رجل غاب عن امرأته (فبلغها) (١) أنه مات، فتزوجت ثم جاء الزوج الأول، فقال عمر: يخير الزوج الأول بين الصداق وامرأته فإن اختار الصداق تركها مع الزوج الآخر، وإن شاء اختار امرأته، وقال علي: لها الصداق بما (استحل) (٢) الآخر من فرجها، ويفرق بينه وبينها، ثم تعتد (ثلاث) (٣) حيض ثم ترد على الأول (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو غائب ہوگیا اور اس کی بیوی کو اس کے مرنے کی اطلاع ملی تو اس نے عدت گزار کر شادی کرلی۔ پھر پہلا خاوند آگیا تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ اگر وہ مہر اختیار کرلے تو عورت دوسرے خاوند کے پاس رہے گی اور اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو اختیار کرلے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کو دوسرے خاوند کی طرف سے مہر ملے گا اور دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی، پھر وہ تین حیض عدت گزارے گی اور پہلے خاوند کو واپس کردی جائے گی۔

حواشی
(١) في [س]: (فبلغ).
(٢) في [س]: (استحلل).
(٣) في [أ]: (بثلاث).
(٤) منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17557، ترقيم محمد عوامة 16989)