حدیث نمبر: 17502
١٧٥٠٢ - حدثنا قبيصة قال: أخبرنا سفيان عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن ابن سابط عن حفصة عن أم سلمة قالت: لما قدم المهاجرون المدينة تزوجوا في الأنصار فكانوا (يجبونهن) (٢) وكانت الأنصار لا تفعل ذلك (فقالت امرأة) (٣) منهن لزوجها: حتى أسأل رسول اللَّه ﷺ (٤)، فاستحيت أن تسأله فسألته (أنا) (٥) ⦗٣٤٥⦘ (فدعاها) (٦) فقرأ عليها: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ صمامًا (واحدًا) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب مہاجرین مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے شادیاں کیں۔ مہاجر لوگ عورتوں کو گھٹنوں کے بل بٹھاکر ان کے سر زمین پر رکھ کر جماع کرتے تھے۔ جبکہ انصار ایسا نہیں کرتے تھے۔ ایک انصار عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا جائے۔ وہ عورت تو سوال کرنے سے شرمائی میں نے سوال کیا تو آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ پھر فرمایا کہ آمد کا سوراخ ایک ہی ہے۔

حواشی
(١) في [س، هـ]: (خيثم).
(٢) في [أ، ب]: (يحبونهن)، وفي [ط، هـ]: (يجبون).
(٣) تكرر في: [جـ].
(٤) سقط من: [جـ، ك].
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ك].
(٦) في [س]: (فدعا)، وفي [ط]: (فدعاه).
(٧) في [س]: (واحد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17502
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم صدوق، أخرجه أحمد (٢٦٦٩٨)، والترمذي (٢٩٧٩)، والدارمي (١١١٩)، والطحاوي ٣/ ٤٢، وأبو يعلى (٦٩٧٢)، وعبد الرزاق في التفسير ١/ ٩٠، والطبراني ٢٣/ (٨٣٧)، والبيهقي ٧/ ١٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17502، ترقيم محمد عوامة 16934)