مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يريد أن يبيع الجارية، من قال: (يستبرئها) باب: آقا کو چاہئے کہ باندی کو بیچنے سے پہلے اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کرلے
١٧٤٩٠ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أسلم النقري عن (عبد اللَّه) (١) بن عبيد ابن عمير قال: باع عبد الرحمن بن عوف جارية له كان يقع عليها قبل أن يستبرئها فظهر بها الحمل عند الذي اشتراها فخاصمه إلى عمر فقال عمر: كنت تقع عليها؟ قال: نعم! قال: فبعتها قبل أن تستبرئها؟ قال: نعم! قال: ما كنت لذلك بخليق! ⦗٣٤٢⦘ (قال) (٢) فدعا القافة فنظروا إليه (فألحقوه) (٣) به (٤).حضرت عبید اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف نے ایک ایسی باندی کو بیچا جس سے وہ جماع کیا کرتے تھے۔ اور اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین نہ کیا۔ جس شخص نے اسے خریدا اس کے پاس حمل ظاہر ہوگیا۔ تو وہ مقدمہ لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن سے پوچھا کہ کیا تم اس سے جماع کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کئے بغیر اسے بیچ دیا ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایسا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پھر انہوں نے قیافہ شناسوں کو بلایا اور انہوں نے بچے کو دیکھ کر بچہ ان کے حوالے کردیا۔